باز[2]
معنی
١ - کشادہ، کھلا ہوا۔ باب نبرد باز امام زمن پہ ہے یلغر چھ لاکھ فوج کا ستر دو تن پہ ہے ( ١٩٥١ء، آرزو، خمسۂ متحیرہ، ١١:٣ ) ١ - پھر، دوبارہ، مکرر (عموماً ترکیبات میں مستعمل)۔ "دو مشتق زبانوں کی متبدلہ اصوات کا مقابلہ کر کے ماخذی زبان کی اصوات کی باز تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔" ( ١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ١٣٢ )
اشتقاق
اصلاً فارسی زبان کا لفظ ہے اور فارسی سے اردو میں ماخوذ ہے بطور متعلق فعل اور گاہے بطور اسم صفت مستعمل ہے۔ عام طور پر مرکبات میں بطور سابقہ مستعمل ہے جیسے بازیافت، باز پرس وغیرہ ١٦١١ء میں 'قلی قطب شاہ" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پھر، دوبارہ، مکرر (عموماً ترکیبات میں مستعمل)۔ "دو مشتق زبانوں کی متبدلہ اصوات کا مقابلہ کر کے ماخذی زبان کی اصوات کی باز تعمیر بھی کر سکتے ہیں۔" ( ١٩٥٦ء، زبان اور علم زبان، ١٣٢ )